سلطنت خوارزم شاہ تاریخ خوارزم شاہ شہزادہ جلال الدین خوارزمی " حصہ اول

سلطنت خوارزم شاہ کی تاریخ امت مسلمہ کے عروج کی داستان جلال الدین خوارزم شاہ تک

حصہ ادل
یہ ایشیا ہے دنیا کا عظیم ترین براعظم اس کی گود یعنی وسطی ایشیا تاریخ کے صفحات پر بکھری ہوئی ان گنت داستانیں ازبر کیے ہوئے اپنے وسیع وعریض رقبے پر نمودار ہونے والی ہزاروں حکومتوں کے تعمیرات و حوادث کی عینی شاہد ہیں.

مگر اس آباد و شاداب خطے پر ایک دور ایسا بھی آیا ہے جس کو یاد کر کے آج بھی اس سرزمین جنت نظیر پر لرزا طاری ہو جاتا ہے. وہ ایک دور تھا جو ساتویں صدی ہجری کے دوسرے عشرے سے شروع ہوا. اور بلآخر سقوط بغداد پر اختتام پذیر ہوا. وسط ایشیا اپنی زرخیز چراگاہوں, آبادی سے معمور گنجان شہروں اور تجارتی گزرگاہوں کی بدولت زمانہ قدیم سے دنیا بھر میں مشہور و معروف ہے.

اس میں دو بڑے دریا ہیں. ایک دریائے ستون جسے سیر دریا بھی کہا جاتا ہے اور دوسرا ہوں جو آج دریائے آموں کے نام سے پہچانا جاتا ہے. ان دونوں دریاؤں کا درمیانی حصہ جو اپنی سرسبزی و شادابی میں لاثانی ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیزی میں بھی ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے. یہاں سمرقند کا مشہور شہر واقع ہے. یہاں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا شہر بخارہ آباد ہے.

دریائے جوں کے افغانستان سے ملنے والے کنارے کو دیکھیں تو سامنے سنن ال ترمذی کے مو؎لف

امام ابو عیسی ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کا شہر ترمذ دکھائی دے گا. اس مختصر سی سیر کے بعد آئیے اپنے اصل مقصد کی طرف چلیں. دریائے جوں کے کنارے کنارے شمال کی طرف بڑھتے جائیں. تو موجودہ جمہوریہ از بیگستان کی شمال مغربی سرحد پر اور گنج نامی شہر نظر آئے گا. یہی یورپ کئی صدیوں قبل خارزم نامی ایک ریاست کا پایہ تخت؎

Khwarazm Shah Empire In Urdu Episode 1

. منگولوں سے لڑنے والی خارزوں سلطنت کیسے وجود میں آئی? آج ہم آپ کو یہی داستان بتائیں خوارزم کا علاقہ اس وقت سے ایک علیحدہ ریاست شمار ہوتا آیا ہے. جب شاہ فارس بہرام گور کے ایک رشتہ دار نے اس پر قبضہ جما لیا تھا. زمانہ قدیم ہی سے خوارزم کے ہر حکمران کو خوارزن شاہ کہا جاتا تھا. تاریخی روایات کے مطابق کہ اکثروں وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے سکندر اعظم کے حملے سے نو سو اسی برس قبل اس ریاست کے حاکم کو خوارزم شاہ کا لقب دیا تھا. اس سرو سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خوارزم کا تمدن کس قدر قدیم تھا?

دلچسپ بات یہ ہے کہ خوار اعظم شاہ کے لقب کا رواج اس علاقے کے اسلامی دور میں بھی یہاں کے آخری تاجدار سلطان جلال الدین خوارم  شاہ کے زمانے تک باقی رہا. غالبا تاریخ اسلام میں یہ واحد مثال ہے کہ اسلام سے پہلے دور کا لقب اسلامی عہد کے حکمرانوں میں بھی اسی طرح رائج رہا ہو. خوارزم پر مسلمانوں کی فوج کشی سب سے پہلے خلیفہ ولید بن عبدالملک اموی کے زمانہ خلافت میں ہوئی.

سات سو بارہ عیسوی میں خلیفہ کے حکم سے فاتح ترکستان قتیبہ بن مسلم باہلی رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں کا رخ کیا اس وقت کا خوارزم  شاہ برائے نام حکمران تھا. اس کا  بھائی خزاد ریاست کی سیاہ و سفید کا مالک تھا. خوارزم شاہ اس صورت حال سے نہایت پریشان تھا.

شہزادہ جلال الدین خوارزم  شاہ کون تھا 

قتیبہ  بن مسلم کی آمد کو اس نے اپنے لیے نیک فعال سمجھا اور ان سے اس شرط پر مسلط کر لی کہ وہ اسے خضاب کی زیادتیوں سے نجات دلائیں. قتیبہ بن مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس شرط کو منظور کر لیا اور یوں سرزمین خوارزم بغیر کسی خون بہائے اسلامی پرچم کے سائے تلے آگئی. یہاں کے باشندوں نے جوق در جوق اسلام قبول کیا اور بہت جلد یہ پورا خطہ اسلام کے نور سے جگمگانے لگا. زمانہ قدیم ریاست خوارزم کے دو دارالحکومت تھے.

ایک درے جوں کے مشرقی کنارے پر تھا جسے کاسٹ کہا جاتا تھا. اور دوسرا مغربی کنارے پر تھا جسے جرجانیہ گورگانچ یا آرگنج کہتے تھے.قتیبہ  بن مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھوں خادم کی فتح کے بعد کاش کا نام المنصوریا پڑ گیا اور اس کی رونق اور آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا. لیکن ایک عرصے بعد دریا نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا. جس سے منصوریہ یعنی کاش غرق ہو گیا
تاریخ سلطنت خوارزم شاہ
سلطنت خوارزم شاہ کیسے وجود میں آئی

. المنصوریا کی بربادی کے بعد وہاں کے باشندوں نے دریا کے مغربی کنارے پر آباد اور گنج جرجانیہ میں سکونت اختیار کر لی. یوں اور گنج کی آبادی میں یک دم زبردست اضافہ ہو گیا. ریاست کے سرکاری دفاتر اور انتظامی مرکز بھی یہی منتقل ہو گئے. ترکستان کے تجارتی قافلوں کی راہ میں ہونے کے باعث اور گنج اس خطے کی مرکزی تجارت منڈی بھی بن گیا.
رفتہ رفتہ جو جان اور گرگنج کے لفظ لوگوں کی زبانوں سے اتر گئے. اور اکثر مقامی باشندوں نے اس شہر ہی کو ریاست کے نام سے موصوم کر کے خوارزم کہنا شروع کر دیا. تاہم بہت سے لوگ پھر بھی اسے آرگنز کے سابقہ نام سے یاد کرتے رہے
. اسلامی مقبوضات میں شامل ہونے کے بعد خادم کو تاریخ میں بڑی پذیرائی نصیب ہوئی. اسلام کے کتنے ہی نامور فقہاء محدثین دانشور اور بادشاہ یہاں کی خاک سے اٹھے اور دنیا میں آفتاب و مہتاب بن کر چنکے. یہ علاقہ علم و حکمت, تہذیب و تمدن اور صنعت و حرفت کا مرکز بن گیا. زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ تخت خوارزم پر یکے بعد دیگر مختلف حکمران برجمان ہوتے رہے. مگر یہ سب خلافت اسلامیہ کے ماتحت ایک صو. بیدار کی سی حیثیت رکھتے تھے. تاہم میکر سے کے بعد جب عباسی خلفاء کی شوکت کو گہن لگا. تو یہاں کے حکمران خلافت کی کش برداشت سے آزاد ہوگئے

Post a Comment

0 Comments