چنگیز خان کے بیٹے تولائی خان کی عبرت ناک شکست || Read Changez Khan history Urdu

چنگیز خان کا بیٹا تولائی لاکھوں پر مشتمل اپنے لشکر کو لے کر کالوین شہر کے نواح میں پہنچا. شہر کے مشرق میں مشرقی دروازے کے بالکل قریب اس نے اپنے لشکر کو پڑاؤ کرنے کا حکم دیا. جس دن وہ وہاں پہنچا وہ دن اور اگلی رات تولائی نے اپنے لشکر کو آرام کرنے کا موقع فراہم کیا. اس سے اگلے روز اس نے اپنے لشکر کو تیار کیا. شہر کے شمالی دروازے سے لے کر جنوبی دروازے تک اس نے اپنے لشکر کو پھیلا دیا اور حکم دیا کہ وہ لشکر پر حملہ آور ہوں اور رسیوں کی سیڑھیاں کہیں نہ کہیں پھینک کر شہر پر چڑھنے کی کوشش کریں.

history of changez khan in urdu

 اس وقت فصیل کے اوپر چاروں طرف نظام الدین نے اپنے لشکری اور بہترین تیر انداز بٹھا رکھے تھے. مغربی حصے کی طرف منگول نہیں گئے تھے لیکن وہ منگولوں کے طریقہ جنگ سے واقف تھا. لہذا چاروں طرف گہری نگاہ رکھے ہوئے تھا. اس موقع پر عارف زنی بروغہ خان اور شہر کے دوسرے سالار بھی اس کے ساتھ تھے. اس موقع پر سب کو مخاطب کر کے نظام الدین کہنے لگا. ہم نے صرف جنوبی دروازے سے شمالی دروازے تک فصیل کی حفاظت نہیں کرنی. منگولوں کا یہ پرانا طریقہ دکھاؤ کچھ کا کچھ یہ مغرب کی طرف سے بھی ہم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں.

 لہذا میں نے مغرب کی سمت جو لشکر ہے اس کو بھی بالکل تیار اور مستعد رکھا ہوا ہے. اب جوں ہی منگول قریب آتے ہیں ان پر ایسی تیز اور شدید تیر اندازی کرنی ہے کہ منگول چیخ چلا اٹھیں. سارے سالاروں نے اس سے اتفاق کیا تھا. پھر جب شہر پناہ کے شمالی دروازے سے جنوبی دروازے تک پھیلے ہوئے منگول شہر پناہ کی فصیلوں کی طرف بڑھے تو جو اگلی دو صفحے تھی انہوں نے اپنے سامنے اپنی ڈھالیں کرنی تھیں. جب قریب ہوئے تب تیر انداز جو ماہر نشان عباس تھے حرکت میں آئے. آگ میں رکھی ہوئی سرخ تپتی ہوئی کھولتی انیوں والے تیر موسلادھار بارش کی طرح انہوں نے منگولوں پر برسانے شروع کیے. جس کو بھی تیر لگتا چیختا چلاتا اور زمین پر لیٹتا ہوا پیچھے ہٹنے لگتا تھا.

changez khan History In Urdu

 آگ میں سرخ کیے ہوئے ان تیروں نے ایک طرح سے منگولوں کے اندر وحشت اور خوف و ہراس پیدا کر کے رکھ دیا تھا. فصیل کے اوپر سے جب لگاتار ان پر تیر اندازی کی گئی تو تولائی کے لشکر کی اگلی آٹھ سے صفحے بالکل بیکار ہو کے رہ گئی تھیں. تولائی خان کو جب خبر دی گئی کہ لشکر کی لگ بھگ آٹھ صفحے بالکل چھن کر رہ گئی ہیں. اور اکثر منگول مارے جا چکے ہیں تب اس کی فکرمندی اور پریشانی کی کوئی انتہا نہ تھی. اور جب اس نے اپنے لشکریوں کو پیچھے ہٹنے کے لیے کہا تو شہر کے جنوبی دروازے سے شمالی دروازے تک فصیل کے باہر منگولوں کی لاشیں ہی لاشیں پڑی ہوئی تھیں. دور رہتے ہوئے تولائی خان نے یہ نظارہ دیکھا. اسے بڑا دکھ اور تعصب ہوا کہ کافی دور تک منگولوں کی لاشیں پھیلی ہوئی تھیں. الہی خان انتقام پر اتر آیا تھا. اس نے عہد کر لیا تھا کہ ہر صورت میں وہ طالبین شہر کو فتح کر کے رہے گا اور اسے فتح کرنے کے بعد نہ صرف یہ کہ شہر کی فصیل اور قلعے کو بالکل مٹا کر زمین کے برابر کر دے گا

 بلکہ جس قدر لوگ شہر کے اندر موجود ہیں ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دے گا. ایک ہفتے تک لگاتار یہی کھیل کھیلا جاتا رہا. تلائی کبھی دن کے وقت کبھی رات کو اپنے لشکر کو فصیل پر چڑھنے کا حکم دیتا تھا اور ہر بار اپنے پیچھے ان گنت لاشیں چھوڑ کر عسکری واپس آجاتے تھے. ایک ہفتہ جب یہی کیفیت رہی تو تولائی خان بوکھلا گیا تھا. اسی روز فصیل کے اوپر ایک برج کے اندر نظام الدین عارف زلزنی اور برغا خان نے شہر کے سالاروں کو اپنے پاس بلایا. پھر انہیں مخاطب کر کے نظام الدین کہنے لگا. اپنے مقبروں کے ذریعے خصوصیت کے ساتھ منگولوں کے لشکر میں یہ خبر پھیلا دو کہ آج آدھی رات کے وقت طالبین کے اندر جو مسلمانوں کا لشکر ہے 
Read Changez Khan history in Urdu
Read Changez Khan history in Urdu



وہ یہاں سے نکل کر ہرات شہر کا رخ کرے گا. یہاں اب وہ مزید مقابلہ نہیں کر سکتے. اور شہر کے لشکریوں کے ساتھ مل کر تولی خان پر ضرب لگائیں گے. اس وقت نظام الدین یہ حکم جاری کر رہا تھا اس وقت عارف زنی اور برغہ خان نے گہری نگاہ ایک دوسرے پر ڈال کر آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو سمجھایا. پھر عارف زنی نظام الدین کو مخاطب کر کے کہنے لگا. نظام الدین میرے بھائی یہ جو آپ خبر پھیلانے لگے ہیں کیا اس میں ہماری بہتری ہے? جواب میں نظام الدین کہنے لگا.


 شہر کے اندر کم از کم ایک سو گھوڑے تیار کیے جائیں. آج آدھی رات کے وقت چند گھوڑوں پر کپڑے کے بنائے ہوئے پتلے کرا دیے جائیں اور پھر انہیں شہر بنا کے مغربی دروازے سے اس شاہراہ کی طرف ہانک دیا جائے گا جو شاہراہ حالات کی طرف جاتی ہیں. اس سے پہلے منگولوں کے لشکر میں یہ خبر خوب پھیلا دی جائے گی کہ طالبین شہر کا دفاع سلطان صلاح الدین خوارزم شاہ کا سالار نظام الدین کر رہا 
ہے. اور ساتھ ہی یہ خبر بھی پھیلا دی جائے کہ پانچ دن تک اس نے شہر کا دفاع کیا. اب اس میں سکت نہیں کہ منگولوں کا مقابلہ کر سکے. چنانچہ آج جب رات عادی سے گزر جائے گی

 تو وہ اپنے چیدہ چیدہ اور قابل بھروسہ سالاروں کو لے کر حالات کی طرف بھاگ نکلے گا تاکہ تولی خان کے سامنے ہرات کا بہترین انداز میں دفاع کیا جا سکے. حارث و زنی میرے بھائی جس وقت یہ کاروائی کی جائے گی اس وقت ہمارے پاس شہر میں جو لشکر ہے اس کا آدھا حصہ شہر سے نکلنے کے لیے بالکل تیار اور مستعد رہے گا. اس کی کمانداری میں خود کروں گا. جبکہ آر ایس زنی اور بروہ خان تم دونوں شہر پناہ کے اوپر رہو گے. بالکل تیار اور مستعد رہو گے تاکہ منگول ہمیں کوئی چکما دینے کی کوشش نہ کریں. میرے بھائی جس وقت گھوڑوں کو ہرات کی طرف بھگایا جائے گا اور اگلے کچھ گھوڑوں پر کپڑے کے بنائے ہوئے باندھ دیے جائیں گے. جن کی تیاری ابھی تھوڑی دیر تک شروع ہو جائے گی. تو تولی خان یقینا اپنے لشکر کا بڑا حصہ اپنے پڑاؤ سے شہر پناہ کے مغربی دروازے کے دائیں بائیں ذرا پیچھے مقرر کر دے گا.

 اور حکم جاری کر دے گا کہ جونہی نظام الدین اپنے لشکریوں کے ساتھ مغربی دروازے سے نکلے اس کا تعاقب شروع کر دیا جائے. اور راستے میں اس کا کام تمام کر دیا جائے. تو علی خان جب ایسا کرے گا تو یاد رکھنا میں ایک لشکر کا حصہ لے کر نکلوں گا اور تولی خان کے پڑاؤ پر حملہ آور ہوں گا. پڑاؤ میں جس قدر اس کے محافظ ہوں گے ان کا خاتمہ کر دوں گا پڑاؤ کے اندر جس قدر سامان میں سمیٹ سکا وہ لے کر میں شہر میں داخل ہو جاؤں گا. عارف زونی اور برغہ خان دونوں نے نظام الدین کی اس تجویز کو سراہا تھا. چنانچہ اسی روز شام کے وقت چاروں طرف یہ خبر پھیلا دی گئی کہ جتنے دن طالبین شہر کا دفاع ہونا تھا ہو چکا. شہر کا دفاع سلطان صلاح الدین کا سالار نظام الدین کرتا رہا
 ہے اب اس میں سکت نہیں رہی. 
Changez Khan history in Urdu read Online

لوگ اس کے خلاف ہو گئے ہیں لہذا وہ شہر چھوڑ کر حالات کی طرف بھاگے گا تاکہ حالات والوں کو مستعد اور تیار رکھے کہ تولی خان کا مقابلہ کیا جا سکے خبر جب چنگیز خان کے بیٹے تولی خان کو پہنچی تو وہ بے حد خوش ہوا. لشکر کا ایک حصہ اس نے اپنے پڑاؤ کی حفاظت پر چھوڑا باقی لشکر کے دو حصے اس نے کالبین شہر کے مغربی دروازے کے دائیں بائیں ذرا ہٹ کر پھیلا دیے تھے. اور اپنے کچھ مقبروں کو مقرر کیا کہ تہم لوگ مغربی دروازے سے ذرا دور ہٹ کر رہنا. جب تم گھوڑے دوڑتے دیکھو تو فضاؤں کے اندر جلتے پروں کا تیر بلند کرنا. اس تیر کے بلند ہوتے ہی تولی خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے لشکر کے ان دونوں حصوں کے ساتھ جو شہر پناہ کے مغربی دربار کے دائیں بائیں قیام کیے ہوں گے. نظام الدین کے پیچھے لگ جائے گا اور ہر حالت میں اسے گرفتار کر لے گا. اور چنگیز خان سامنے پیش کرے گا. تولی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نظام الدین کو زندہ گرفتار کر کے خان اعظم کے سامنے پیش کر دیں تو خان اعظم ہماری اس شکست کو قبول کر لے گا جس کے تحت نظام الدین نے ہمارے تیس ہزار لشکریوں کا خاتمہ کیا تھا.

 تولی خان کے سالاروں اور ساتھیوں نے اس تجویز کو پسند کیا تھا. لہذا آدھی رات سے پہلے دو بڑے بڑے لشکر کالوین شہر کے مغربی دروازے دائیں بائیں ذرا ہٹ کے مقرر کر دیے گئے. آدھی رات کے وقت شہر پناہ کے مغربی دروازے سے گھوڑے نکلے. اگلے گھوڑوں پر پتلے باندھ رکھے تھے وہ گھوڑے جنہیں سائنسوں نے چابک مار مار کر سرپٹ دوڑنے پر مجبور کر دیا تھا. شہر سے نکلتے ہی اس شاہراہ کی طرف سرپٹ بھاگ کھڑے ہوئے جو شاہراہ کالوین سے ہرات شہر کی طرف جاتی تھی. تولی خان نے چونکہ اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا. ایک حصہ شہر کے مغربی دروازے سے ذرا ہٹ کر کافی فاصلے پر دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب تھا.

 اور اس کے کارندوں نے فضاؤں کے اندر جلتے پروں کے تیر بلند کیے تب تولی خان کے دونوں لشکر ہرات کی طرف جانے والی شاہراہ پر آگ کھڑے ہوئے تھے. انہیں اپنے سامنے گھوڑوں کے دوڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں. اندھیرا ہونے کے باوجود وہ یہ نہ جان سکے کہ کچھ گھوڑوں کی پیٹیں خالی ہیں اور کچھ پر پتلے باندھ رکھیں. بہرحال وہ ان کے پیچھے لگ گئے تھے. جوں ہی تولی خان اپنے لشکر کے دو حصوں کے ساتھ حالات کی طرف جانے والی شاہراہ پر ہو لیا تب لشکر کے ایک حصے کے ساتھ نظام الدین نکلا. منگولوں کے لشکر طرف گیا. منگولوں نے جو اس وقت جاگ ر
ہے تھے دیکھ لیا کہ دشمن کا کوئی لشکر ان کی طرف آ رہا
Read Changez Khan history in Urdu

 ہے. لہذا وہ مستعد ہو گئے تھے. جونہی نظام الدین اپنے لشکر کے ساتھ آگے بڑھا منگول اپنے پڑاؤ سے نکل کر تشدد کے
 بدترین موسموں, فنا کے نقیب بنتے بربریت کے پیکروں ایک تھے سورج تلے زمین کے سینے پر رینگتے ستم کشوں کے عذاب اور اجاڑ موسموں میں رنگتیں منخنی راستے پر ہنگتے بیابانوں کی طرح حملہ آور ہو گئے تھے. جوابی کاروائی کرتے ہوئے نظام نے بھی دیر نہیں لگائی. منگولوں کی طرح وہ بھی اپنے لشکر کے اضطراری حالت میں بہتی ساگر کی بلند موجوں, فتنہ بے ماہا کھڑے کرتی تبکاری اور شعلوں کے لرزا رنگوں کی سی بے خوفی کی طرح حملہ آور ہو گیا تھا. اس طرح منگولوں کے پڑاؤ کے اندر مقدر کی بے نامی میں اعصابی 
ہے جان اٹھ کھڑا ہوا تھا. عصمت کی رسوائیوں میں مسترب تشنگی کے نوحے نہ چھوٹے تھے. منگولوں کے پڑاؤ میں فشار آتش
Historic Defeat of Genghis Khan's Son Tolui Khan Vs Muslims | Mongols History

 کا سماں برپا ہو گیا تھا. تن من گھائل کرتی موت جسموں کا عا وہموں کی سیاہی پھیلانے لگی تھی اور بے نام و نشان کرتے اڑتے دھند لمحے چار سو رقص کرنے لگے تھے. نظام الدین چونکہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا. منگولوں کے پاس بہت بڑا لشکر تھا جس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا. لہذا وہ چنگیز خان کے بیٹے تولی کے پلٹنے سے پہلے پہلے پڑاؤ کے اندر جو منگولوں کا لشکر تھا اس کا خاتمہ کر دینا چاہتا تھا. اس بنا پر اس نے اپنے لشکریوں کو للکارا. تیز حملے کرنے کی انہیں ترغیب دی جس کے جواب میں اس کے لشکری بکھر گئے اور ایسے حملے شروع کیے کہ پہلے وہ اپنے پڑاؤ سے باہر جنگ کر ر
ہے تھے. اب پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے پڑاؤ کے اندر چلے گئے. نظام الدین کے لشکر نے ان کے گرد ایک حصار سا بنا لیا تھا

 اور پھر ان کا قتل عام شروع کر دیا. زیادہ تر گول مارے گئے کچھ ادھر ادھر اپنی جانیں بچاتے ہوئے چھپ گئے. کیونکہ پڑاؤ کے اندر بھی جنگ ہوئی تھی. لہذا پڑاؤ کے اندر جو ان گنت گھوڑے بندے تھے وہ بھی ادھر ادھر بھٹکنے لگے. نظام الدین کے کہنے پر ان سارے گھوڑوں کو پکڑا گیا. اس کے علاوہ باربرداری کے جانوروں اور خوراک میں ہونے والے جانوروں کو بھی اٹھایا گیا. تولی خان کی جو رسد تھی اس کا کافی سامان گھوڑوں اور باربرداری کے جانوروں پر لادا گیا پھر ساری چیزوں کو سمیٹتا ہوا نظام الدین حفاظت کے ساتھ دوبارہ شہر میں داخل ہو گیا. تولی خان اپنے لشکر کے جن دو حصوں کے ساتھ حالات کی شاہراہ کی طرف گیا تھا ان دو حصوں میں سے ایک حصے کی وہ کمانداری خود کر رہا تھا اور دوسرے حصے کی کمانداری چنگیز خان کا بہترین سالار ازخود کر رہا تھا. کچھ دور تک انہوں نے تعاقب کیا. یہاں تک کہ اپنے آگے بھاگنے والے گھوڑوں انہوں نے جا لیا اور جب انہوں نے ان گھوڑوں کا گھیراؤ کر کے انہیں روکا تو ان کی پریشانی فکرمندی کی کوئی حد نہ تھی. گھوڑوں پر کچھ نہیں تھا کچھ گھوڑوں پر جو آگے آگے بھاگے تھے پتلے باندھے ہوئے تھے. جب سارے گھوڑوں پر قابو پا لیا گیا اور دونوں لشکر یکجا ہو کر رک گئے تب تولی خان نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے قریب کھڑے اپنے ساتھی سالار عسکطوں کو مخاطب کر کے کہنا شروع کیا. اس کا تو کیا ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا 
ہے? ان گھوڑوں پر تو پتلے باندھ دیے گئے.
Read Changez Khan history Urdu

 اس طرح ہماری نظروں میں غبار بھرنے کی کوشش کی گئی ایسا کر کے کالبین شہر کے اندر جو مسلمانوں کا سالار 
ہے وہ اپنے لیے کیا فوائد حاصل کرنا چاہتا 
ہے? جہاں تک ہمارے پڑاؤ کا تعلق ہے وہاں ایک اچھا خاصہ بڑا لشکر 
ہے اور طالبین شہر کے اندر جو مسلمانوں کا لشکر
 ہے وہ پڑاؤ میں موجود ہمارے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا. لہذا وہ ہمارے پڑاؤ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے. اب میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ ان خالی گھوڑوں کو ہانک کر حالات کی طرف جانے والی شاہراہ پر کیوں ڈال دیا گیا
 ہے? کچھ دیر خاموشی رہی جب اس مسئلے کا تلائی کوئی حل نہ نکال سکا. تب عسکطوں کو مخاطب کہنے لگا. ازخود ان سارے گھوڑوں کو اپنے سامنے ہانکتے ہوئے واپس اپنے پڑاؤ کی طرف چلتے ہیں. اس کے ساتھ ہی تولی خان اپنے لشکر کے ساتھ واپس ہو لیا. تو علی خان اور اس کا نائب سالار سکتو جب اپنے لشکر کو لے کر اپنے پڑاؤ کے قریب پہنچے تو دنگ رہ گئے. پڑاؤ پیرگی کے صحرا میں بانجھ تحریروں کی طرح اداس اور رات کے آنچل میں اجڑے راستوں سا ویران دکھائی دے رہا تھا.

یہ صورتحال دیکھتے ہوئے تولی خان اور ازخود دونوں کی حالت منزل سے بھٹکے کاروانوں کی سی ہو کے رہ گئی تھی. اور وہ سارے لشکری اپنے گھوڑوں سے اتر گئے اور اپنے پڑاؤ کا جائزہ لینے لگے. ہر سو دل گرفتہ سہل محشر منحوس سعادتاں اجاڑ موسموں کی اجڑی بستیوں, دکھ کے اندھے کنوؤں کا سا سماء برپا ہو گیا. سارے پڑاؤ کا جائزہ لینے کے بعد تولی خان اور ازقط و ایک جگہ رکے. ان کے لشکری خود بڑے پریشان اور فکرمند تھے اور کسی قدر خوفزدہ بھی ہو ر
ہے تھے کہ اس موقع پر اپنے پہلو میں کھڑے ہوئے. عسکطوں کو مخاطب کر کے تولی خان کہنے لگا. اس کو تو یہ ایک حیرت انگیز معاملہ ہے حملہ آور جو بھی تھا وہ ہمارے لیے فضاؤں کو خون رنگ اور قدم قدم پر قیامت کھڑی کر کے چلا گیا. اب ہم نے اپنے لشکر کے تین حصے کیے تھے. ایک حصہ میرے پاس رہا دوسرا تمہارے پاس اور تیسرے کو ہم نے پڑاؤ کی حفاظت کے لیے چھوڑا تھا. ہم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہمارے پڑاؤ میں اس قدر لشکر ہے کہ شہر کے اندر سے مسلمانوں کا کوئی بھی لشکر باہر نکل کر پڑاؤ میں موجود ہمارے لشکر سے ٹکرائے گا نہیں. اب ہمیں ایک طرح سے بے وقوف اور احمق بنا کر رکھ دیا گیا ہے.

 ہمارے ہاتھ مسلمانوں کے کچھ گھوڑے لگیں لیکن ہمارے پڑاؤ میں جو سینکڑوں گھوڑے تھے وہ تو غائب سینکڑوں ہی بار برداری کے جانور تھے وہ بھی نہیں ہیں اور خوراک کے لیے جو جانور ہم نے رکھے ہوئے تھے وہ بھی غائب ہیں. اس کے علاوہ رسد کا سامان جس قدر ہمارے پاس تھا اس کا آدھا بھی ہمارے پاس نہیں رہ گیا. یہاں تک کہنے کے بعد تولی خان رکا دم لیا پھر کہنے لگا. اس نے ہمیں تین نقصان پہنچایا. طالبین شہر کے اندر میں نہیں جانتا مسلمانوں کا سالار کون ہے? لیکن وہ ہے بڑا عقل مند اور صاحب فراست. اس نے ہمارے خلاف جنگی چال استعمال کر کے ہمیں تین طرح کا نقصان پہنچایا ہے. اگر تو یہ نظام الدین ہے تو جیسا اس میں سنا گیا ہے وہ ہار نہیں مانے گا. تین طرح کا نقصان تو ہم اٹھا ہی چکے ہیں.

اول یہ کہ اس نے ہمیں بے وقوف بناتے ہوئے خالی گھوڑوں کے پیچھے لگا دیا اور ہم ان گھوڑوں کا پیچھا کرتے ہوئے حالات کی طرف جانے والی شاہراہ پر ہو لیے. دوسرا بڑا نقصان اس نے ہمیں یہ پہنچایا کہ ہمارا رسد کا سامان آدھے سے زیادہ لے گئے. پڑاؤ میں جس قدر گھوڑے تھے وہ بھی لے گیا اور پڑاؤ کے اندر باربرداری اور خوراک کے لیے استعمال ہونے والے جو جانور تھے ان پر بھی ہاتھ صاف کر گیا ہے

 ایک طرح سے وہ شہر والوں کے لیے کئی ہفتوں کی خوراک ہمارے پڑاؤ سے اٹھا کر لے گیا ہے. گھوڑوں کی کمی بھی محسوس ہوگی. مسلمانوں کے جو گھوڑے ہمارے ہاتھ لگے ہیں وہ بہت تھوڑے ہیں. جبکہ مسلمانوں کا سالار جو طالبین شہر میں کام کر رہا ہے وہ تو ہمارے ہزاروں گھوڑوں کو یہاں سے لے گیا ہے. تیسرا یہ کہ ہمارے ان گنت لشکری مارے گئے ہیں. یہاں تک کہنے کے بعد ایک بار پھر تولی خان رکا اور پہلے کی نسبت زیادہ غضب ناکی اور غصے میں کہہ رہا تھا. اس کو تو اب حالات کچھ بھی ہو جائیں اب ہم شہر والوں سے اس کا انتقام لیے بغیر نہیں جائیں گے. ہر صورت میں اس شہر کو فتح کریں گے. نہ صرف شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا شہر کو زمین کے برابر کر دیں گے بلکہ شہر کے اندر جس قدر رہائش رکھنے والے ہیں. ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے. یہاں تک کہنے کے بعد تولی خان رکا. اس لیے کہ ان کے وہ جاسوس آگئے تھے جنہیں تولی خان نے مسلمانوں پر نگاہ رکھنے کے لیے مقرر کیا تھا اور جنہوں نے رات کے وقت جلتے پروں کے تیر بلند کیے تھے.

 جب وہ تولی خان کے قریب آئے تب تولی خان انہیں مخاطب کر کے کہنے لگا. تم لوگوں نے اپنے فرض کی ادائیگی تو بڑے احسن طریقے سے انجام دی لیکن ذرا اپنے پڑاؤ کی حالت دیکھو. شہر کے اندر کام کرنے والے مسلمانوں کا انتہائی دانش مند اور تجربہ کار ہے. اس نے ہمارے لشکروں کے دو حصوں کو ہرات کی طرف جانے والی شاہراہ پر بھگا دیا. اور ہماری غیر موجودگی میں ہمارے پڑاؤ پر حملہ آور ہوا. پڑاؤ کے اندر ہمارے جس قدر لشکری تھے. سب کو اس نے موت کے گھاٹ اتار دیا. پڑاؤ کے اندر سے خوراک کے ذخائر گھوڑے باربرداری کے علاوہ خوراک میں استعمال ہونے والے جانور سب ہانکتا ہوا شہر کے اندر لے گیا. یہ کسی عام سالار کا کام نہیں نہ کوئی عام سالار اتنا بڑا معرکہ سر کر سکتا ہے. نہ ایسی جرات اور بے خوفی کا مظاہرہ کر سکتا ہے کہ میں ہمارے خاصے بڑے لشکر پر حملہ آور ہوں.

یہ کام کسی تجربہ کار سالار کا ہے کہ اس نے پڑاؤ کے اندر ہمارے اتنے بڑے لشکر کا خاتمہ کر دیا. اور پھر ہر چیز سمیٹتا ہوا چلتا بنا. تو علی خان جب یہاں تک کہنے کے بعد خاموش ہوا تب ایک مخبر بولا اور کہنے لگا. مالک آپ کا اندازہ درست ہے یہ کسی عام اور خام کار سالار کا کام نہیں بلکہ یہ مرنے والے سلطان صلاح الدین خوارزم شاہ کے ایک انتہائی تربیت یافتہ انتہائی دلیر اور جنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے سالار کا کام ہے. اور اس سالار کا نام ہم جان چکے ہیں اس کا نام نظام الدین ہے. یہاں تک کہنے کے بعد مخبر کچھ دیر کو رکا پھر دوبارہ تولی خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا. ہم ایک اچھی خبر بھی لائے ہیں اور وہ یہ کہ نظام الدین اور کوشان خان ایک ہی ہستی کا نام ہے. کوشان خان جو کچھ عرصہ پہلے ہمارے مرکزی شہر میں گیا تھا اور جس کا تیز زنی کا مقابلہ کراچی سے ہوا تھا اور کراچی کو اس نے بڑی آسانی کے ساتھ اپنے سامنے زیر کر لیا تھا. وہی کوشان خان دراصل مرنے والے سلطان صلاح الدین خوارزم شاہ کا بہترین سالار نظام الدین ہے.

 یہ وہی نظام الدین ہے جس نے کئی سالاروں کا خاتمہ کیا اور کئی مواقع پر ہمارے لشکریوں کو شکست دی. اور ان سے رسد کا سامان چھین کر چلتا بنا. وہ مخبر جب خاموش ہوا تب کچھ سوچتے ہوئے تولی خان کہنے لگا. تمہارا اندازہ درست ہے یہ کام باقی نظام الدین ہی کر سکتا ہے. کوئی اور سالار ایسا کرنے کی جرات نہیں کر سکتا اور یہ انکشاف بھی ہمارے لیے نیا اور انوکھا ہے کہ کوشاں خنی ہی دراصل نظام الدین ہے. اگر ایسا ہے تو پھر مرنے والے سلطان صلاح الدین خوارزم شاہ کا یہ سالار جس کا اصل نام نظام الدین ہے اور جو کوشان خان کے نام سے شہر میں گیا تھا. وہ کچھ خاص خبریں یا معلومات حاصل کرنے کے لیے وہاں گیا تھا. ایک بار پھر دم لینے کے لیے تولی خان رکا اور اس بار وہ پہلے کی نسبت زیادہ غصے اور غضب ناکی میں ازقطور وہاں جمع ہونے والے چھوٹے سالاروں کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا.

 اب یہ ہمارے ذمے ہے کہ شہر کو فتح کر کے اس نظام الدین کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا جائے. شہر کو گرا کر زمین کے برابر کر دیا جائے اور شہر کی ساری آبادی کو تحت تیز کر دیا جائے. نظام الدین اور ایسے ساتھیوں کو پکڑ کر خان اعظم کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ہمارے سالاروں اور ہمارے ان گنت لشکریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے جرم میں اسے بد سے بدترین سزا دی جائے. یہاں تک کہنے کے بعد تولی خان خاموش ہو گیا. جبکہ اس کے تحت کام کرنے والے سارے سالاروں نے خاص طور پر عسکطوں نے اتفاق کیا تھا. لہذا اس روز تو منگول خاموش ہو گئے. اگلے روز انہوں نے کالبین شہر پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے. لیکن نظام الدین عارف زوزنی اور برغا خان نے انہیں اپنا یہ کمال دکھایا کہ تولی خان کے پورے لشکر کو انہوں نے شہر کی فصیل تک نہیں آنے دیا. اور جو منگول لشکری شہر کے قریب آتا موت سے بغل گیر ہو جاتا تھا.

 اس طرح کالوین شہر کو فتح کرنے کے لیے تولی خان نے لگاتار آٹھ دن تک کوشش کی لیکن وہ بری طرح ناکام رہا. آخر اپنی اس ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے اس نے کالون شہر کا محاصرہ اٹھا لیا اور ناکام و نامراد ہرات شہر کی طرف بڑھا تاکہ اس پر حملہ آور ہو کر اپنی ناکامیوں کو اپنی کامیابیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں. تاریخ کے اوراق میں ہرات شہر کی ہمیشہ بڑی اہمیت رہی ہے اس شاندار اور عظیم شہر کی تعمیر سے متعلق چار مشہور و معروف روایتیں مشہور ہیں. پہلی روایت یہ ہے کہ ہرات شہر کی تعبیر سے پہلے اس کے قریب قندس شہر کو پانچ سو سات قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے تعمیر کیا تھا. یہاں کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام تیمور اس بن ہاشم تھا.

کہتے ہیں اس تمغورس نے زندگی ناز و نام سے گزری تھی اور بڑی زندگی پائی تھی. اس کے ایام سلطنت نہایت عظمت میں گزرنے لگے تو کہتے ہیں کہ وہ شیطان کے دامے اور گمراہی میں پڑ گیا اور اس نے کھودائی کا دعوی کر دیا. چنانچہ ظلم و ستم کرنے لگا جس کے نتیجے میں تمام علاقوں کے باشندے اس سے متنفر ہونے لگے. اس کے ناپسندیدہ کام سے روگردانی کرنے لگے. اس طرح رفاح عامہ کے کام تباہ کاریوں میں بدلنے لگے اور لوگ وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے. اکثر درباری اور خدمت گار بھی اسے چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی جانب مراجعت کر گئے.

اندس کے تقریبا پانچ ہزار صحرا نشین کابل منتقل ہوئے وہاں کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعد عشرت کے بجائے اس رد کی زندگی بسر کرنا پڑی. اور وہاں کی آب و ہوا بھی راز نہ آئی تو غور کی طرف چلے گئے. غور میں بھی جب خوشحالی نہ پائی تو آگے چل کر اوبہ نامی مقام پر کافی عرصے کے لیے بود و باش اختیار کر لی. وہاں انہوں نے عالی شان عمارتیں تعمیر کیں وہاں انہیں نعمتیں بھی میسر ہوئیں. وہاں قیام کے دوران وہ متمول بھی ہوئے. اس کے بعد ان میں تنازعات اور اختلافات پیدا ہو گئے. ان کے اشراف میں سے ایک نے صحرا میں قبیلے کی ایک دوشیزہ پر دست اندازی کی جب قوم کے شیخ اور اہم شخصیات کو اس معاملے کا پتہ چلا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس لڑکی کا نکاح اسی نوجوان سے کرا دیا جائے تاکہ بدنامی فتنہ اور انتشار سے بچا جا سکے. مگر اس نوجوان کے قبیلے والوں نے کہا کہ ہم اصل نسب اشراف ہیں اور اس لڑکی کا کوئی حسب و نسب نہیں ہے.

 اس لیے وہ شادی پر رضامند نہ ہوئے. بلآخر دونوں قبیلوں میں مخالفت بڑھ گئی اور معاملہ جنگ و جدل تک پہنچ گیا. حتی کہ ایک فریق غالب آ گیا اور شکست خوردہ فریق کے لوگ وہاں سے نکل کر وادی میں چلے گئے. جہاں کئی سال تک قیام کیا مگر وہاں بھی غالب فریق ان سے مویشیوں کی صورت میں ہر سال خراج لیتا رہا. وہ اس مقام پر نہایت ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے. حتی کہ ان کا قبیلہ بڑھ گیا اور مشہور بھی ہوگئے. یہاں تک کہ ان کے درمیان ایک انتہائی حسین اور خوبصورت عورت نے جنم لیا. اس عورت اور اس حسینہ کا نام شمیرہ بنت آفریدون تھا اور یہ ایران کے عظیم حکمران کیومرز کی اولاد میں سے تھی اور اپنے قبیلے کی سردار تھی جو ہمیشہ قوم کے ساتھ مہربانی اور مروت سے پیش آتی تھی.

ایک دن اس حسینہ نے اپنی قوم کو بلایا اور کہا کہ ہم کب تک ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنے مخالف قبیلے کے باج گزار بنے رہیں گے? میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے اگر تم لوگ بدستور میرے ساتھ اتفاق کرو تو بہت جلد ہم اس ذلت کی زندگی سے چھٹکارا پا لیں گے. چنانچہ اس حسینہ کی اس پیشکش پر پوری قوم نے تعاون کا اقرار کیا. بڑے بڑے سرکردہ امراء اور روسیہ نے کہا کہ ہم اپنی ملکہ کی ہر بات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا فرض خیال اب ہم قوی اور دولت مند قوم ہیں.

آپ ہماری عزت کی بحالی کے لیے جو مصلحت بھی بہتر سمجھیں اس پر عمل کریں. شمشیرہ اپنے قوم کے جواب سے مطمئن ہوگئی اور کہا اے قوم مصلحت یہ ہے کہ ہم یہاں پر آہستہ آہستہ ایک مضبوط قلعہ بنا لیں تاکہ حملہ آوروں کی مدافعت کر سکیں. ہمیں چاہیے وہ ظالم قبیلہ جو ہم سے خراج وصول کرتا ہے ان سے کہیں کہ ہم چار سال کا اکھٹا خراج دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس عرصے میں ادھر نہ آئیں اور ہم اپنے تعمیری کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دوستوں آج کے لیے اتنا ہی اسی کہانی کی اگلی قسط کے ساتھ بہت جلد حاضر ہوں گے. نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا

Post a Comment

0 Comments